FACE BOOK WAQT GUZARI YA KHALIS RISHTON SE DUURI

فیس بُک وقت گزاری یا خالص رشتوں سے دُوری۔۔۔

فیس بک ا ستعمال حالیہ کچھ برسوں میں تیزی سے بڑھ گیا ہے یہ پہلی سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ ہے جو آپکو لاکھوں لوگوں سے ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ جوڑتی ہے چاہے آپ دنیا کے جس کونے میں بھی ہوں آپ کی زندگی میں ہونے والی ہر ایکٹیوٹی سے آپ اپنے اردگرد کے دوست احباب کو ہمیشہ باخبر رکھتے ہیں چاہے پھر وہ ویڈیو شیئرنگ یا تصویروں کے ذریعے ہو یا ویڈیو کالنگ کے ذریعے۔آپ اپنے چاہنے والوں سے ہمیشہ رابطے میں رہتے ہیں۔یہاں تک تو بات ٹھیک ہے مگر! جہاں فیس بک کو سب سے بڑی سوشل ورکنگ ویب سائٹ ہونے کا درجہ حاصل ہے وہیں فیس بک اپنی ساری خوبیوں کو بیک وقت خامیاں بنا دینے میں بھی ماہر ہے۔ یعنی جہاں اسے دنیا کی سب سے بڑی سوشل نیٹ ورک سائٹ ہونے کا درجہ حاصل ہے ۔وہیں اسے ’’ ویسٹنگ آف ٹائم‘‘ کہا جار ہا ہے۔فیس بک میں سٹیٹس اَپ کرنا ہو یا پھر چیٹنگ کرنا دونوں ہی وقت برباد کرنے والی بات ہے اور دوسری طرف آپ کی ہر ایکٹیوٹی سے آپکے دوست احباب تو باخبر رہتے ہیں یا نہیں؟ البتہ آپکی زندگی میں بیک وقت کئی کھڑکیاں کھل جاتی ہیں جن سے ہزاروں لوگ جھانک رہے ہوتے ہیں۔اور یہ جاننے کے لئے بے قرار ہوتے ہیں کہ آپ کی زندگی میں آخر چل کیا رہا ہے؟ کیونکہ واحد چیز جو فیس بک کی خامی ہے وہ بھی یہی ہے کہ یہ سب سے پہلے آپ کی پرائیویسی ختم کردیتی ہے۔ اس جیسے اور کئی سوال ہیں جو جواب طلب ہیں مثلاًکیا فیس بک رشتوں میں بگاڑ پیدا کررہی ہے،کیا فیس بک کسی قسم کا خوف پیدا کررہی ہے، کیا فیس بک ایسی معلومات پھیلا رہی ہے جو قابل اعتبار نہیں،کیا فیس بک ہماری روایات کو بگاڑ رہی ہے،کیا فیس بک پر اپنی ذاتی معلومات فراہم کرنا ٹھیک ہے؟اہم بات یہ ہے کہ کیافیس بک صرف وقت گزاری کا ذریعہ ہے؟اگر ہم فیس بک کے فوائد اور نقصانات کی بات کریں تو پلڑا پنی اپنی جگہ بھاری ہے مثلاً یہ کہ فوائد ہوں تو ہم کہیں گے کہ یہ آپ کو اپنے پرانے اور نئے دوستوں سے روابط پیدا کرنے میں مد دیتی ہے اس کے علاوہ آپ چاہے اپنی فیملی سے کتنے دور ہوں وہ ہر لمحہ آپکی زندگی میں ہونے والے واقعات سے خود کو باخبر رکھتے ہیں۔حال ہی میں پچھلے دنوں میں ایک یورپی ملک میں انوکھا واقعہ دیکھنے کو ملا۔ہوا کچھ یوں کہ ایک مسلم لڑکی اپنے گھر کو چھوڑ کر چلی گئی جس کی وجہ سے والدین نے یہ سمجھا کہ خدانخواستہ اس کے ساتھ کوئی بُرا واقعہ پیش آگیا ہے۔ اس کی ایک دوست نے فوراً فیس بک پر ایک پیج ’’مسنگ گرل‘‘ کے نام سے بنایااورپھر اُس ملک کے کافی شہری بنا کسی مذہبی اختلاف کے ایک ہو گئے اور اسے ڈھونڈنے کی کوشش کی جانے لگی۔کچھ دنوں بعد وہ لڑکی واپس گھر آئی اور اس نے کہا وہ ٹھیک ہے اور اپنے والدین سے تھوڑا ناراض ہوکے گئی تھی اس کی دوست نے شرمندگی میں ان لاکھوں لوگوں سے معافی مانگی اور یوں قصہ ختم ہو گیا۔لیکن اگر ایسا کوئی سچ مچ کا واقعہ مستقبل میں پیش آگیا تو کیا لوگ اس پر اعتبار کریں گے؟یہ ٹھیک ہے کہ آپ فیس بک کے ذریعے لاکھوں لوگوں سے نا صرف مددلے سکتے ہیں بلکہ اپنے نظریاتی اختلافات کو بھی مٹا سکتے ہیں۔ لیکن کیا آپ اپنے فوائد کی وجہ سے فیس بک کے نقصانات بھلادیں گے’’چلیں ہم صرف اس ایک بات کو دیکھتے ہیں کہ فیس بک ہماری روایات کوبگاڑ رہا۔ کیا فیس بک سچ میں ایسا کررہی ہے؟کیا واقعی ایسا ہی ہے؟ دراصل فیس بک پر ایسے کئے پیچز اور بلوگز موجود ہیں جو معاشرے میں برائی پھیلا رہے ہیں پہلے آپ جن چیزوں کو انٹرنیٹ کے اندر جا کر ڈھونڈتے تھے اب وہی آپ کو کھلے عام نظر آجاتے ہیں اور انہیں ہماری ہی سوسائٹی کے لوگ ناصرف پروموٹ کرتے ہیں بلکہ اپنا سارا وقت اس پر گزار دیتے ہیں یہ یاد رکھیئے کہ ایسے سوشل نیٹ ورک میں کسی کا ساتھ صرف لوگ ان ہونے سے لوگ آؤٹ ہونے تک کا ہوتا ہے۔لیکن لوگ اپنا زیادہ وقت ایک مشین کی ایسی سائٹ کو دے رہے ہیں جو ناصرف انہیں جسمانی طور پر بیمار کر رہی ہے بلکہ روحانی اور ذہنی طور پر بھی بیمار بنا رہی ہے۔’’اچھائی کی نسبت برائی زیادہ پھیلتی ہے‘‘ یہ مصرعہ ہمیشہ یاد رکھئے۔ فیس بک کے حوالے سے آجکل میسجز میں کافی مزاق اڑایا جاتا ہے۔ لیکن ہم پھر بھی اس کے متواتر استعمال سے باز نہیں آتے۔ اور نہ ہی اس سے زیادہ اور کچھ ضروری انہیں نظر آتا ہے جب آپ حد سے زیادہ ٹائم ایک مصنوعی رشتہ کو دیں گے تو آپ کے اپنے ذاتی اور خالص رشتے تو نظر انداز ہو نگے کیا فیس بک کا سٹیٹس اَپ ڈیٹ کرنا ضروری ہے یا پھر رشتوں کو وقت دینا؟فیس بک کے حوالے سے ہم جو کچھ بھی کہہ لیں آپ اس کو سچ نہیں مانیں گے۔جب تلک آپ خود اس کے کسی نقصان کو برداشت نہ کرلیں۔ اس لیے ہم بھی آپ کے لئے فیس بک سٹیٹس کا ہی اَپ ڈیٹ فراہم کر رہے ہیں۔جو شاید ٹھیک بھی ہے۔ کیونکہ آج کل بچوں اور بڑوں میں کوئی فرق نہیں رہا اور خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s