WALIDAIN AUR BUZURGON KA EHTRAM

والدین اور بزرگوں کا احترام

دنیا میں انسان کے سب سے بڑے محسن اس کے والدین ہیں۔ وہ اولاد سے جیسی بے غرض محبت کرتے ہیں اور ان کی پرورش میں جو تکلیفیں اٹھاتے ہیں، ان کی خوشی اور آرام کے لئے اپنی تما م تر خوشیاں اور راحتیں قربان کر دیتے ہیں۔اس کا کوئی بدلہ اولاد نہیں دے سکتی۔ اس لئے والدین کا حق سب سے زیادہ ہے۔والدین کے حقوق اتنے زیادہ ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کی عبادت اور شرک کی ممانعت کے ساتھ ساتھ والدین کے ساتھ حس سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔والدین کا اپنی اولاد پر اتنا احسان ہے اور وہ اس کے مستحق ہیں کہ ان کے سامنے اُف تک نہ کہا جائے۔ان کے ساتھ عاجزی سے پیش آیا جائے۔ زندگی میں ان کی خدمت کی جائے اور بعد میں ان کے لئے دعائے مغفرت کی جائے۔ قرآن حکیم میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کا باربار حکم دیا گیا ہے۔’’اور تمہارے رب نے قطعی حکم دیا ہے کہ اس کے سواکسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیکی سے پیش آؤ اور اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے ضعیفی کی عمرکو پہنچیں تو ان کے آگے اُف بھی نہ کرو ، نہ ان کو جھڑکو۔ اگر ان سے کچھ کہنا ہو تو ادب کے ساتھ کہو اور محبت سے عاجزی کا پہلوان کے سامنے جھکادو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار تو ان پر رحمت فرما، جس طرح انہوں نے مجھے پچپن میں پالا‘‘۔(بنی اسرائیل 22-23)اسلام میں شرک سے بڑھ کر کوئی گنا ہ نہیں۔مشرک سب سے بڑا گنہگار ہے لیکن والدین کا حق اتنا ہے کہ مشرک والدین کے ساتھ بھی بھلائی اور نیکی کرنے کا حکم ہے لیکن اگر وہ شرک کی دعوت دیں تو ان کا کہا نہ مانا جائے۔والدین کا خیال رکھنا بہت بڑی نیکی ہے۔حضرت عبد اﷲ بن عمروبن العاصؓ نے رسول اﷲﷺ سے پوچھا ‘ خدا کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کا م کون سا ہے؟فرمایا وقت پر نماز پڑھنا‘ پوچھا پھر کون سا؟ فرمایا‘ والدین کے ساتھ نیکی کرنا‘ پھر فرمایا‘ جہاد فی سبیل اﷲ۔ایک صحابی کہتے ہیں کہ میرے والد‘حضوراکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا‘ یا رسول اﷲﷺ میں جہاد کرنا چاہتا ہوں‘ آپ کی خدمت میں مشورے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔آپﷺ نے پوچھا‘ تمہاری ماں موجود ہے انہوں نے کہا‘ ہاں فرمایا‘ بس ان کے قدموں میں رہو‘ ان کے پاؤں کے نیچے جنت ہے۔ماں باپ کا حق ان کے مرنے کے بعد بھی ختم نہیں ہوتا۔ ان کے لئے مغفرت کرنی چاہیے، انہوں نے وعدے کئے تھے ان کو پورا کرنا چاہے ان کے دوست و احباب کا پاس اور لحاظ کرنا چاہیے۔ایک مرتبہ بنوسلمہ کے ایک شخص نے آپ سے پوچھا‘ یا رسولﷺ کوئی ایسی نیکی ہے جو ماں باپ کی موت کے بعد ان کے ساتھ کرسکوں۔ فرمایا‘ ان کے لئے دعا کرو ان کی مغفرت چاہو‘ ان کے بعد ان کے کئے ہوئے وعدوں کو پورا کرو۔ ان کے عزیزوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ اور ان کے دوستوں کی عزت و احترام کرو۔ حضرت عبداﷲ بن عمرؓ اپنے والد کے ملنے والوں کا بہت خیال رکھتے تھے انہیں قیمتی تحفے دیتے۔ ایک بار کسی نے اعتراض کیا تو فرمایا۔’’ میں نے رسولاﷲﷺ سے سنا ہے کہ سب سے بڑی نیکی اولاد کا پنے باپ کے دوستوں کے ساتھ حسن سلوک ہے‘‘۔

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s